مکرمی ، آج کا مسلمان صرف نام کا رہ گیا ہے کرداروگفتار ، وضع ،قطع شکل صورت میں مغربی تہذیب وتمدن کا دلدادہ ہو گیا ہے ملت اسلامیہ میں فحاشی وعریانی کے جگہ جگہ اڈے قائم ہیں مسلم امت میں سود خور ، رشوت خور ،ملاوٹ کر نے والے زناکاری کر نے والے شراب کے نشہ میں مست لو گ حقوق کی پامالی کر نے والے ، سنت نبی ﷺ کامذاق اڑانے والے ۔

چھپ چھپ کر گناہ کر نے والے جگہ جگہ نظر آتے ہیں لیکن جن چیزوں سے شریعت نے منع کیا ہے ان سے باز رہنے والے اور جن چیزوں کو شریعت نے بجالانے کا حکم دیا ہے اس کو عملی جامہ پہنانے والے ، اخلاق حسنہ سے مزین وآراستہ افراد ، اسلامی روایات ورسم رواج کو فالو کر نے والے ، انسانی اقتدار کی پاسداری کر نے والے بہت کم ہی نظر آتے ہیں ۔ ہماری نسل کی زبان پر موجودگالیاں ہمیں سنائی نہیں دیتیں ، موجودہ وقت میں مسلم بچوں اور بچیوں کے زبان پر گانے ، مسلم محلوں وگلیوں میں گند گی کے انبار، دینی وعصر ی تعلیم سے دوری اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دلوں سے احساس فکرختم کر کے خود کو بے حس بنا لیا ہے ، اسلامی تعلیمات پر عمل کر نا چھوڑ دیا ہے اسلاف واکابرین کی طرز زندگی پر چلنے سے راہ فرار اختیار کر لیا ہے

اور اگر یہی صورتحال بر قرار رہی تو وہ دن دور نہیں کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہلوانا شرم محسوس کریں گے اس لئے بڑے ہی ادب سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دینی بھائیو،شعور وفکر بیدارکر کے اپنی طر ز زندگی ، رویہ ، اخلاق ، مزاج بدل ڈالو ورنہ بہت خسارے میں رہو گے

سلمان کبیر نگر ی ایڈیٹر نئی روشنی ، برینیاں ، سنت کبیر نگ