جاوید اختر بھارتی

جو شخص کسی سے اللہ تبارک و تعالیٰ کیلئے محبت رکھے، اللہ تعالیٰ کیلئے دشمنی رکھے اور اللہ کیلئے دے اور اللہ کیلئے منع کرے، اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا دو شخصوں نے اللہ کیلئے باہم محبت کی اور ایک مشرق میں ہے اور دوسرا مغرب میں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں کو جمع کر دیگا اور فرمائے گا کہ یہی وہ شخص ہے جس سے تونے میرے لئے محبت کی تھی اللہ کی رضا کیلئے محبت رکھنے والے عرش کے ارد گرد یاقوت کی کرسی پر ہونگے جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ان پر زبرجد کے بالا خانے ہیں وہ ایسے روشن ہیں جیسے چمکدار ستارے لوگوں نے رسول پاک صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ان میں کون لوگ ہونگے تو نبی سید الکونین نے فرمایا کہ وہ لوگ ہوں گے جو صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے آپس میں محبت رکھتے ہیں، ملتے جلتے ہیں۔

ایک جگہ بیٹھا کرتے ہیں غور کرنے کا مقام ہے کہ جولوگ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کل انہیں بروز قیامت کیسے کیسے انعامات عطا فرمائے گا مگر افسوس موجودہ زمانے میں ہمارے معاشرے میں مفاد پرستی اس قدر عروج پر ہے کہ دنیاوی معاملات تو ایک طرف اب تو دینی معاملات میں بھی لوگ اپنی غرض اور اپنا مفاد تلاش کرتے ہیں کسی کا ساتھ پکڑیں گے تو مقصد کاروبار کا ہوگا گیم، زنا کے مناظر، بدنیتی، بدنگاہی، لہولعب ،سماج کو شرمشار کرنے والے کام کرنے میں ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں جوا، شراب نوشی دھوکہ دہی جھوٹ، غیبت چغلی یہ سب کچھ عام ہوتا جا رہا ہے معاشرے میں اور اس کو آج چالاکی اور ہوشیاری کا نام دیا جارہا ہے۔

یعنی آج ایسا وقت آگیا ہے کہ غلط کام کرنے کے بعد پچھتاوا نہیں ہوتا بلکہ فخر کے ساتھ انجام دی ہوئی برائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے آج یہ بھلا دیا گیا کہ برائی کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر محسوس کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے لوگوں کو قبر میں اتارتے وقت بھی ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کل ہمیں بھی لوگ اسی طرح کاندھے پر اٹھا کر لائیں گے اور قبر میں دفن کرکے واپس چلے جائیں گے شہر خموشاں میں جانے کے بعد بھی آج ہم عبرت حاصل کرنے کے بجائے ہنس ہنس کر دنیاوی باتوں میں مصروف رہتے ہیں بلکہ دنیا سے رخصت ہونے والا ہر شخص ہمیں پیغام دیتا ہے کہ آج تم لوگ جس طرح مجھے دفنا کر جارہے کل تمہیں بھی لوگ اسی طرح دفنا کر تنہا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

لیکن ہم نے مردوں کو نہلانا کفنانا دفنانا بس ایک رسم سمجھ لیا ہے یعنی احساس نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہی ہمارے اندر صرف مطلب پرستی، موقع پرستی مفاد پرستی کو ہم فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں اور اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ سلام و مصافحہ تک کو ہم نے بس ایک عام چیز سمجھ لیا ہے اگر کسی سے کوئی فائدہ ہے تو سلام کیا جاتا ہے ورنہ اس میں بھی خلوص کے ساتھ پہل نہیں کی جاتی جبکہ سلام ہمارے آقائے کریم صل اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کی بھی سنت ہے مگر بدقسمتی آجکل لوگوں کی اکثریت اس سنت سے غافل نظر آرہی ہے عام مشاہدہ ہے کہ جس سے جان پہچان نہ ہو تو اسے سلام کرنا گوارہ نہیں کیا جاتا یہاں تک کہ کچھ لوگ ایک جگہ موجود ہوں تو آنے والا اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو نظر انداز کر کے گذر جاتا ہے۔

اچانک نگاہ گھوم تی ہے اور کوئی جان پہچان کا تو واپس آکر اس سے سلام کیا جاتا ہے اور وہ بھی شائد اس لئے کہ وہ کیا کہے گا کہ سامنے سے گزر گیا اور سلام تک نہیں کیا یعنی لاجاً مروتاً، مجبوراً یاکہ پھر کسی نہ کسی مفاد و مطلب کے پیش نظر گویا خلوص کے ساتھ نہیں، سنت پر عمل پیرا ہونے کے جذبے کے تحت نہیں اور اس بات کی نشاندہی تو پیارے آقا صل اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فرماچکے ہیں رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے قبل خاص خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا تجارت پھیل جائے گی یہاں تک کہ حصول دنیا کی خاطر بیوی تجارت میں اپنے شوہر کی مدد کرنے لگے گی اور آدمی اپنا مال لیکر زمین کے اطراف میں جائے گا اور جب واپس آئے تو کہے گا کہ مجھے کچھ بھی نفع نہیں ہوا اس حدیث پاک میں بطور خاص تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

خاص خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا، تجارت میں بیوی شوہر کی مدد کرے گی اور تجارت میں نفع نہ ہوگا ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہئے کہ مذہب اسلام میں سلام کی بڑی اہمیت ہے بلکہ سلام اسلام کے بہترین اعمال میں سے ایک بہترین عمل ہے سید عرب وعجم صل اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ کسی سے ملاقات ہوتی تو سلام میں پہل فرماتے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری سنت پر عمل کرتے ہوئے ہر مسلمان کو سلام کرے خواہ جان پہچان ہو کہ نہ ہو سلام عام کرنے والوں کیلئے جنت میں عظیم الشان محلات تیار کئے گئے ہیں سلام عام کرنا سلامتی کے ساتھ دخول جنت کا ذریعہ ہے اور گناہوں کا کفارہ بھی ہے تعلقات کو خوشگوار بنانے کا طریقہ بھی ہے اس سے بغض و حسد کا خاتمہ بھی ہوتا ہے اور محبت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

لیکن افسوس آج ایک دوست دوسرے دوست کو گالیوں سے مخاطب کرتا ہے اور جواب میں دوسرا دوست بھی گالیوں کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گالی دینے والا شخص دوست ہوہی نہیں سکتا مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس سے بھی تعلق رکھے تو پاکیزہ تعلق رکھے کیونکہ مذہب اسلام کے اندر مکر و فریب، دھوکہ دہی کی گنجائش ہے ہی نہیں کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہم سبھی مسلمانوں کو ان سب باتوں پر عمل کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔