آزادی سے لیکر آج تک ملک میں تشددی مظاہروں سے مسلمانوں کا دامن پاک ہے:شہر قاضی

رپورٹ ۔حافظ محمد ذاکر۔(7نو مبر 2019 یو این اے نیوز) ہمارے ملک ہندوستان میں بڑے بڑے مسائل سے مسلمان دوچار ہوا مگر کبھی ہم مسلمانوں نے اس ملک میں کسی بھی طرح کے تشددی مظاہرے نہیں کئے،ہم نے کبھی اپنے کوئی خصوصی اختیارات حاصل کر نے کے لئے روڈ جام نہیں کئے،ریلوے ٹرک کو کبھی روکا نہیں، کبھی کسی طرح کی کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی،اور کروں بھی کیوں؟یہ ملک ہمارا ہے جو ایک گھر کی مانند ہے،اور کوئی بھی شخص اپنے گھرکی توڑ پھوڑ نہیں کرتا،اپنے گھر کو نقصان نہیں پہنچاتا،
ان باتوں کا اظہار آج سبزی منڈی پر واقع رام جانکی میرج ہال میں منعقد حاجی محمد اسحاق کی صدارت اور ڈپٹی مجسٹریٹپھول چندر آریہ،ڈی،ایس، پی پریانک جین کی موجودگی امن امان کی ایک نشست کے درمیان بیان کئے،

انہو نے کہا کہ ملک کی آزادی کے فوراً بعد بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا،اسی درمیان مسجد کا تالاکھولا گیا،اسوقت بھی مسلمانوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار تو کیا،مگر تشدد نہی کیا،اسی طرح جب بابری مسجد کے اندرونی حصہ میں مورتیاں نصب کی گئیں اس وقت بھی ہم مسلمانوں نے صبر
کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،یہانتک کہ مسجد کو شہید کردیا گیا،پھر بھی ہم مسلمانوں نے وطن پرستی کا ثبوت دیا،اب جبکہ کچھ ہی روز میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے ملک کا سب سے اہم مسئلہ پر فیصلہ آنے والا ہے،ان حالات میں بھی ہم اپنے عدالتی نظام پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے فیصلہ کو قبول کریں
گے،اس موقعہ پر ڈی ایس پی،پریانک جین نے کرشنا داس لودھی کی(سوشل میڈیا) کی بات پر تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ ضلع انتظامیہ ان دنو سوشل میڈیا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، افواہ پھیلا نے والوں پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی،

انہو نیں کہا کسی بھی طرح کی کوئی امن نقص کی بات نظر آئے
تو سب سے پہلے پولس (ہمکو) مطلع کریں،ہم اس پر فوراً کارروائی کریں گے،مگر آپ لوگ اس کو افواہ بنا کر پیش نہ کریں،شر ہسندوں اور فرقہ پرستوں کو پولس اپنی راڈار پر رکھے ہوئے ہے،انہو نیں مزید کہا کہ اگر کسی دھرم گرو یا مذہبی مقامات پر کسی طرح کی بھی کوئی بات ہو تو آپ مجھے بتائیں،انتظامیہ اس پر خاص توجہ دیگی اور ان کی حفاظت کا اہتمام بھی کریگی،

ڈپٹی مجسٹریٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کسی طرح کی افواہ پھیلا جرم کے زمرے میں مانا جائیگا،صرف اتنا ہی نہیں ایسی پوسٹوں کو لائک کرنا،کمینٹ کرنا،یا شیئر کرنا یہ تمام چیزیں جرم کے زمرے میں شمار کی جائیں گی،ہم سب مل کر امن شانتی بنائیں رکھیں،اپنی ہندوستانی تہذیب کو ہر گز پامال نہ ہو نے دیں، اس موقعہ پر بودھ دھرم گرو، سابق چیر مین بدرالنساء،ڈاکٹر منوج دیکشت،تالے سنگھ یادو،عبدالقیوم انصاری،عبد السلام،شاکر حسین،ملایم سنگھ یادو،کرشنا داس لودھی،کوشلیندر،گڈو مشرا، ڈاکٹر آلوک شاکیہ،عمران جاوید،سمیت سیکڑوں لوگ موجود رہے