دیوبند(دانیال خان)(یواین اے نیوز 6نومبر2019)دارالعلوم دیوبند کی زیر تعمیر لائبریری کا معاملہ اس وقت پھر سرخیوں میں آ گیا جب کمشنر سنجے کمار نے لائبریری کی دوبارہ جانچ کرائے جانے کے احکامات جاری کر دئے ،بتایا جاتا ہے کہ بجرنگ دل کے علاقائی کنوینر وکاس تیاگی کے ذریعہ ارسال کردہ شکایتی مکتوب کی بنیاد پر کمشنر سنجے کمار نے ڈی ایم آلوک کمارکو دارالعلوم احاطہ میں زیر تعمیر لائبریری کے نقشہ سے لیکر رقبہ تک کی جانچ کے احکامات جاری کر دئے ہیں ،واضح ہو کہ بجرنگ دل کے علاقائی کنوینر وکاس تیاگی نے گزشتہ 10اکتوبر کو کمشنر سنجے کمار سے ملاقات کر ان سے شکایت کی تھی کہ دارالعلوم میں لائبریری کی تعمیر کا کام 1994سے جاری ہے جو کہ 3557ورگ میٹر سے کہیں زیادہ رقبہ میں بنائی جا رہی ہے۔

ساتھ ہی بتایا تھا کہ دارالعلوم کی زیر تعمیر لائبریری کی چھت پر بغیر اجازت کے ہیلی پیڈ کی تعمیر کی جا رہی ہے جو حفاظتی نقتہ نظر کے منافی ہے ، وکاس تیاگی نے کمشنر سنجے کمار کو بتایا کہ مزکورہ معاملہ میں ڈی ایم آلوک کمار پانڈے اور ایس ایس پی دنیش کمار پربھو نے چار اگست کو دارالعلوم پہنچ کر لائبریری کی جانچ کی تھی اس دوران انکے ساتھ پی ڈبلو ڈی محکمہ کے انجینئر ،ٹیکنیکل ٹیم ،ایس ڈی ایم دیوبند راکیش کمار کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے ،جانچ کے دوران یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ لائبریری کی تعمیر کے لئے اجازت نامہ اور این او سی سے متعلق دستاویز دارالعلوم کے پاس نہیں ہیں وکاس تیاگی نے کمشنر سنجے کمار سے کی گئی۔

شکایت میں کہا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا کردار اس سے قبل بھی کئی معاملوں میں متنازع رہ چکا ہے جس کے سبب یہاں ہیلی پیڈ کی تعمیر صحیح نہیں ہے انہوں نے کمشنر سنجے کمارسے ہیلی پیڈ کی نئے سرے سے جانچ، لائبریری کے رقبہ کی جانچ اور لائبریری میں جاری تعمیری کام کو رکوائے جانے سمیت مزکورہ کام میں مقامی انتظامیہ کے رول کو مشکوک بتاتے ہوئے قصور وار افسران کے خلاف کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا ،اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے کمشنر سنجے کمار نے ڈی ایم آلوک کمار کو لائبریری معاملہ کی جانچ نئے سرے سے کرنے کے احکامات جاری کر دئے ہیں۔

جبکہ اس معاملہ میں دارالعلوم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو لائبریری سے متعلق دستاویز اور تمام تفصیلات پہلے ہی دی جا چکی ہے ،بہت جلد جرمانہ بھر کر معاملہ حل کر لیا جائےگا ۔ ساتھ ہی ادارہ کے مہتمم الہاج مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی بنارسی نے تحریری طور پر انتظامیہ کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ لائبریری کی چھت پر ہیلی پیڈ کی تعمیر نہیں کرائی جا رہی ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی ارادہ ہے۔