صوبہ میں دکھنے لگا کمل ناتھ کی مہارت

بھوپال،ایم ایس حسن سینئر صحافی بھوپال(یواین اے نیوز 6نومبر2019) مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ شاید ریاست ہی نہیں بلکہ ملک میں پہلے ایسے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے اپنی حلف برداری کے صرف ایک گھنٹہ کے اندر تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے ’’جے کسان قرض معافی اسکیم‘‘ کے تحت 20لاکھ کسانوں کے 2لاکھ روپے تک کے قرض معاف کرکے کسانوں سے کئے گئے اپنے اور اس وقت کے کانگریس صدر راہل گاندھی کے وعدے کو پورا کرکے عملی جامہ پہنایا ۔ صوبے میں 15سالوں کی جدوجہد کے بعد کانگریس کو زیادہ سیٹیں تو ملیں۔

لیکن حکومت سازی کے لئے ضروری 116سیٹوں سے 2کم تھی اب پارٹی کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ اقلیت کی حکومت چلانے کے لئے کس مناسب شخص کا انتخاب کیا جانا چاہئے جبکہ دوسری طرف پارٹی کے اندر ’’کون بنے گا وزیر اعلیٰ ‘‘کے لئے گھمسان مچا تھا ۔ایسے میں راہل گاندھی کی دور اندیشی نے دوسری سبھی امیدوں اور اٹکلوں پر روک لگاتے ہوئے کمل ناتھ جیسے قابل اور تجربہ کار انسان کو یہ ذمہ داری سونپی اور آج یہ ان کے کاموں کا ہی نتیجہ ہے کہ اتنے کم عرصہ میں انہوں نے اقلیتی حکومت کو اکثریتی حکومت میں تبدیل کردیا ۔ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے 4 آزاد، 2بہوجن سماج پارٹی اور ایک سماج وادی پارٹی کے ممبران کو اپنے حق میں لے کر اکثریت ثابت کردی۔

اتنا ہی نہیں ان کی موثر انتظامی قابلیت اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے بی جے پی کے دو ممبران اسمبلی کو کانگریس کے حق میں لاکر کھڑا کردیا جس سے بی جے پی میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔کمل ناتھ جو وکاس پروش کے نام سے جانے جاتے ہیں خزانہ خالی ہونے کے باوجود اپنی کامیاب قیادت اور موثر تجربے کے باوجود ایک کے بعد ایک کسان اور عوام کے حق میں فیصلے کو انجام دے رہے ہیں جو ریاست مدھیہ پردیش میں ایک ریکارڈ ہے ۔ کمل ناتھ نے اب تک 90سے زیادہ فیصلے ہی نہیں لئے بلکہ زیادہ تر پر کام یا تو مکمل ہوچکے ہیں یا پھر شروع ہوچکے ہیں جن میں سب سے پہلا کام 20لاکھ کسانوں کے 2لاکھ روپے تک کے قرض معاف کرنا شامل ہے ۔ ایک بڑے فیصلہ میں کسانوں کے مفاد میں بجلی کی شرح پہلے کے 1400روپے کے بجائے 700روپے فی ہارس پاور کردی گئی۔

جس کی وجہ سے کسانوں کی بچت براہ راست دوگنی ہوگئی ۔ بیٹیوں کے لئے ویواہ(نکاح) اسکیم پر 51ہزار روپے سیدھے کھاتے میں جمع کروائے جاتے ہیں جو سابقہ حکومت میں صرف 28ہزار تھے وہ بھی سامان کی شکل میں دیئے جاتے تھے ۔ بیوہ،عمر دراز لوگوں کی پینشن 300روپے ماہانہ سے بڑھاکر 600روپے کردی گئی اور اسے مزید بڑھا کر ایک ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ۔ وعدے کے پکے انسان کمل ناتھ نے غریبوں کے لئے استعمال ہونے والی100یونٹ بجلی پر صرف 100روپے وصول کرنا طے کیا ہے سابقہ حکومت 200روپے وصول کرتی تھی ۔ ہندوتو پر کسی مخصوص پارٹی یا تنظیم کے غلبے کو توڑتے ہوئے کانگریس نے ’’رام ون گمن پتھ‘‘ کی ترقی کے لئے 2ہزار کروڑ روپے مختص کئے۔

اسی طرح مذہبی کاموں میں دلچسپی لیتے ہوئے پجاری کے لئے فلاح وبہبود فنڈ بناکر اس فنڈ میں ایک کروڑ روپے مختص کردیئے گئے ۔ مندروں میں کام کرنے والے 21ہزار پجاریوں کے اعزاز میں تین گنا اضافہ کیا،اس کے ساتھ ہی مٹھ مندر صلاحکار کمیٹی کے لئے 50ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ صوبائی حکومت کے سربراہ کمل ناتھ مذہبی مفاد کے کام میں آگے بڑھتے ہوئے بلاک سطح پر گائے کے تحفظ کے لئے گئو شالا تعمیر کرانے کا کام شروع کرایا ۔ وزیر اعلیٰ لگاتار اپنے وعد ے کو پورا کرنے کی سمت میں اقدامات کررہے ہیں ۔ پہلے کہا تو جارہا تھا کہ 50لاکھ کسانوں کے قرض معا ف ہوں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف 38سے 40لاکھ لوگوں کے ہی قرض معاف ہوں گے۔

کمل ناتھ کو وکاس پروش کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ نہ صرف کانگریس بلکہ حزب اختلاف کے رہنماءوں نے بھی ان کے کام کے انداز اور ترقیاتی صلاحیت کی تعریف کی ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی بابولال گور نے یہاں تک کہا کہ اگر ترقی دیکھنا ہے تو موجودہ وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کے حلقہ چھندواڑہ کو دیکھیں ۔ تاہم حزب اختلاف جماعت اپنے دور حکومت کی ناکامی کو چھپانے کے لئے دھوکہ دہی کا سہارا لے کر موجودہ حکومت کی کامیابیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہے ۔ رسہ کشی کے اس کھیل میں سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے الزام لگایا تھا کہ کمل ناتھ نے کسانوں کے قرض معاف ہی نہیں کئے ہیں جس کے جواب میں کانگریس کے لیڈر قرض معافی کے ثبوت بوریوں میں بھرکر ان کی رہائش گاہ پہونچ گئے۔

اور ان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان میں سے کسی کسان کو فون کرکے معلوم کرسکتے ہیں کہ قرض معاف ہوا یا نہیں، جس کے بعد اس موضوع پر کانگریس کو کوسنے کا کام کرنے والوں کی زبان بند ہوگئی اور اب تقریباً کوئی تذکرہ نہیں ہورہا ہے ۔ اسی موقع پر حزب اختلاف کو نشانہ بناتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا تھا جس پارٹی نے کسانوں کے سینے گولیاں داغیں اس کو کوئی حق نہیں کہ کسان کے حق میں ہمارے کام کو چیلنج کرے ۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا ہمارا مقصد صرف ریاست کی ترقی ہے اور کوئی بھی مجھے اس ارادے سے پیچھے نہیں کرسکتا، جہاں تک ریاست میں تبادلے کا تعلق ہے جو کسی بھی نئی حکومت کا انتظامی عمل ہے۔

جس کے تحت ابھی تک تقریباً 800سے 900تک تبادلے ہوئے ہیں جن پر حزب اختلاف نے برسرکار اقتدار حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے اسے تبادلہ صنعت سے تعبیر کردیا لیکن سچ یہ ہے کہ بی جے پی کے دو ر میں تقریباً 33ہزار سے زیادہ تبادلے ہوئے تھے ۔ اسی پر کسی نے خوب کہا تھا ’’جس کے گھر خود شیشے کے ہوں دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے‘‘ تمام الزامات سے بے فکر کمل ناتھ کسانوں اور عوام کے لئے فائدہ مند فیصلے لگاتار لیتے جارہے ہیں ۔ اسی کا ثمرہ ہے کہ’’ جے کسان سمردھی یوجنا‘‘ کے تحت حکومت ریاست کے کسانوں سے 2ہزار روپے فی کوئنٹل پر گندم خرید رہی ہے جو مرکزی حکومت کی طرف سے طے شدہ 1840روپے کے مقابلہ میں 160روپے زیادہ ہے۔

اس سے تقریباً 18لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوگا،حکومت نے حادثہ میں کسانوں کی مستقل یا عارضی معذوری یا پھر اس کی موت اور آخری رسومات پر 9کروڑ 40لاکھ خرچ کیا ہے ۔ حکومت نے پچھڑا طبقہ کے ریزرویشن کو بڑھاکر 27فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ساتھ ہی معاشی طور پرکمزور عام طبقہ کے لوگوں کے لئے 10فیصد ریزرویشن کا فیصلہ کیا ہے ۔ یووا سوابھیام یوجنا کے تحت نوجوانوں کو سودن روزگار کی گارنٹی دی ہے ۔ ہر ماہ 4ہزار روپے اسٹائی پنڈ ملنا شروع ہوا جس کے تحت صوبے کے 6لاکھ 50ہزار نوجوانوں کو فائدہ مل رہا ہے ۔ پلاسٹک کو پوری طرح سے بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کی پیداوار، خرید وفروخت اور نقل وحمل پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

تیندو پتہ کی بوریوں پر فی بوری 500روپے بڑھاکر 2500روپے کردیئے گئے ہیں سب سے اہم فیصلہ پولس والوں کے حق میں لیا گیا اور ان کو کام کے بوجھ سے نجات دلاتے ہوئے پہلی بار ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا جو عمل میں ا ٓچکا ہے ۔ صوبہ میں انڈسٹریزلگانے والے کو سخت ہدایت دی گئی ہے کہ 70فیصد روزگار مقامی باشندوں کو دیا جائے ۔ کمل ناتھ حکومت نے ایک بہت ہی اہم فیصلہ لیا ہے اور وہ فیصلہ’’ رائٹ ٹو واٹر‘‘ یعنی پانی کا حق دینے کا فیصلہ ہے۔

جو ہندوستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ایسا ہونے جارہا ہے ۔ اتنا ہی نہیں اب صوبائی حکومت’’ رائٹ ٹو ہیلتھ‘‘ دینے پر غور کررہی ہے ۔ اور اس کے لئے پچھلے دو دنوں سے ایکسپرٹ کی رائے لی جارہی ہے جس پر جلد ہی فیصلہ ہوگا ۔ کمل ناتھ کے مستقل عزم اور ترقی دوست شخصیت کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اگر ان کو چھیڑا نہیں گیا تو اپنی پانچ سالہ معیاد میں ترقی کا گنگا بہا دیں گے ۔